احمدیت کا پیغام — Page 5
کے مدعی ہیں کہ یہ دونوں کتب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن اس بات کے ہرگز مدعی نہیں کہ ان دونوں کتب کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کا بولا ہوا ہے مگر قرآن کریم کے متعلق وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ اس کا پیش کرنے والا نہ صرف اس بات کا دعویدار ہے کہ قرآن کریم کا مضمون خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے بلکہ اس بات کا بھی دعویدار ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنا نام علاوہ کتاب اللہ کے کلام اللہ بھی رکھا ہے لیکن تو رات و انجیل نے اپنا نا کلام اللہ نہیں رکھا، نہ قرآن کریم نے اُن کو کلام اللہ کہا ہے۔پس مسلمان ممتاز ہے دوسرے مذاہب سے اس بات میں کہ دوسرے مذاہب کی مذہبی کتابیں کتاب اللہ تو ہیں لیکن کلام اللہ نہیں لیکن مسلمانوں کی کتاب نہ صرف یہ کہ کتاب اللہ ہے بلکہ کلام اللہ بھی ہے۔اسی طرح سب ہی مذاہب کی ابتداء انبیاء کی ذات سے ہوئی ہے لیکن کوئی مذہب بھی ایسا نہیں جس نے ایسے نبی کو پیش کیا ہو جو تمام امور دینیہ کی حکمتوں کو بیان کرنے کا مدعی ہو اور جسے بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔عیسائیت جو سب سے قریب کا مذہب ہے وہ تو مسیح کو ابن اللہ قرار دے کر اس قابل ہی نہیں چھوڑتی کہ اس کے نقش قدم پر کوئی انسان چلے کیونکہ انسان خدا جیسا نہیں ہوسکتا۔تو رات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بطور اُسوہ حسنہ کے پیش نہیں کرتی۔نہ تو رات اور انجیل حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہا السلام کو مذہبی حکمتوں کے بیان کرنے کا ذمہ دار قرار دیتی ہے لیکن قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَة یہ نبی تمہیں احکام الہیہ اور اُن کی حکمتیں بتاتا ہے۔پس اسلام ممتاز ہے اس لے بقره: ۱۵۲