احمدیت کا پیغام — Page 48
۴۸ طریقہ سے حاصل ہوگا جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے۔جب مسلمان مسلمان ہو جائے گا، جب وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے لگ جائے گا، جب وہ روحانی اشیاء کو مادی اشیاء پر فوقیت دینے لگے گا تو وہ عیا شانہ زندگی جو اس وقت مغربی اقوام کی وجہ سے ہمارے ملک میں رائج ہورہی ہے آپ ہی آپ مٹ جائے گی اور انسان کسی کے کہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنے نفس کی خواہش کے ماتحت لغویات کو چھوڑ دے گا اور سنجیدہ زندگی بسر کرنے لگ جائے گا اور اسکی زبان میں تاثیر پیدا ہو جائے گی اور اس کا ہمسایہ اُس کے رنگ کو اختیار کرنے لگے گا اور عیسائی اور ہندو اور دوسرے ادیان کے لوگ بھی اسی طرح جس طرح کہ مکہ کے لوگوں نے کہا تھا یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ لو كَانُوا مُسلمین کاش وہ مسلمان ہوتے اور پھر ہوتے ہوتے یہ قول ان کا مکہ کے لوگوں کی طرح عمل میں بدل جائے گا اور وہ مسلمان ہو جائیں گے کیونکہ کوئی شخص زیادہ دیر تک اچھی بات سے دور نہیں رہ سکتا، پہلے رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر لالچ آتی ہے، پھر کوشش پیدا ہوتی ہے اور آخر انسان کھچا کھچا اس چیز کی طرف آہی جاتا ہے۔یہی اب بھی ہوگا۔پہلے اسلام مسلمان لوگوں کے دلوں میں داخل ہوگا پھر وہ ان کے جسموں پر جاری ہو جائے گا۔پھر غیر مسلم لوگ خود بخود ایسے کامل مسلمانوں کی نقل کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے اور دنیا مسلمانوں سے بھر جائے گی اور اسلام سے معمور ہو جائے گی۔اے عزیز و! اس چھوٹے سے مضمون میں میں تفصیلی دلائل بیان نہیں کر سکتا اور احمدیت کے پیغام کی تمام جزئیات کو آپ کے سامنے پیش نہیں کرسکتا۔میں نے اجمالی طور پر احمدیت کی غرض اور اس کا مقصد آپ لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مضمون پر غور کریں اور سوچیں کہ دنیا میں کبھی بھی مذہبی تحریکیں صرف دنیوی الحجر :