احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 21 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 21

21 حصہ اوّل تعلیمی پاکٹ بک أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ میں گزرنے کے دو ہی طریق بیان کئے گئے ہیں۔موت اور قتل کیا جانا۔آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کیا جانے یا صلیب پر مارا جانے کی نفی کی گئی ہے پس ان کے لئے طبعی موت پانا ثابت ہوا۔اگر وہ زندہ ہوتے تو قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کے بعد إِلَّا عِيسَی بن مریم کہہ کر ان کا استثناء کیا جاتا۔تا یہ استدلال ہوسکتا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کے سوا باقی نبی گزر چکے ہیں۔منطقی لحاظ سے اس آیت میں دلیل استقرائی سے کام لیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جب پہلے تمام نبی وفات پاچکے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر معمولی عمر پانا ناممکن ہے اگر کوئی ایک رسول بھی آپ سے پہلے غیر معمولی عمر پانے والا ہوتا تو یہ دلیل چونکہ نقص سے پاک ہوتی ہے اور کمزور نہیں ہوتی اس لئے اس جگہ استقراء تام مراد ہو گا اور الرُّسُلُ کے لفظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول مراد ہوں گے گویا الرُّسُلُ کا آل استغراق عرفی کے لئے قرار پائے گا۔خلا فُلانٌ کے معنی لغت میں لکھے ہیں: :1 خَلَافُلانٌ : إِذَامَاتَ - (لسان العرب) خَلَا فُلان کے معنے ہیں آدمی مر گیا۔:2 خَلَا الرَّجُلُ : أَى مَاتَ (اقرب الموارد) خَلَا الرَّجُلُ کے معنی ہیں آدمی مر گیا۔:3 خَلَافُلانٌ : أَيْ مَاتَ۔(تاج العروس) خَلافُلان کے معنی ہیں وہ مر گیا۔قرآن کریم میں قَدْ خَلَتْ کا استعمال بغیر الی کےصلہ کے جن لوگوں