احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 398
پیتعلیمی پاکٹ بک 398 حصہ دوم نکلا۔یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ہاں چونکہ در حقیقت ایسا کوئی یسوع مسیح نہیں گزرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہو۔اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو۔اور حضرت موسی کو ڈاکو کہا ہو۔اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے اُس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 305 حاشیہ) نیز تحریر فرماتے ہیں:۔یادر ہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں“۔(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 13) اسی طرح فرماتے ہیں:۔بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑ اسا حال اُن پر ظاہر یں اور مسلمانوں پر واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع و شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسی کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر