احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 381 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 381

381 حصہ دوم و دینی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو تو وہ ملک حضرت شاہ صاحب ( حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدّث قدس سرہ۔ناقل ) کے نزدیک بے شبہ دارالاسلام ہوگا اور از روئے شرع مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لئے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں“۔نقش حیات جلد 2 صفحہ 11 مطبوعہ الجمعیۃ پریس دہلی ) (ج) مولانا شبلی نعمانی بھی انگریزوں سے جہاد جائز نہیں سمجھتے تھے۔دیکھئے تلخیص از مقالات شبلی جلد اول صفحه 163 مطبوعہ جنرل بائنڈنگ کارپوریشن پریس لاہور ) (1) شمس العلماء مولانا نذیر احمد صاحب دہلوی مترجم قرآن کریم نے فرمایا تھا:۔”ہندؤوں کی عملداری میں مسلمانوں پر طرح طرح کی سختیاں رہیں۔اور مسلمانوں کی حکومت میں بعض ظالم بادشاہوں نے ہندؤوں کو ستایا۔الغرض یہ بات خدا کی طرف سے فیصل شدہ ہے کہ سارے ہندوستان کی عافیت اسی میں ہے کہ کوئی اجنبی حاکم اس پر مسلط رہے ، جو نہ ہندوہو نہ مسلمان ہی ہو۔کوئی سلاطین یورپ میں سے ہو مگر خدا کی بے انتہاء مہربانی اس کی مقتضی ہوئی کہ انگریز بادشاہ ہوئے۔“ ( مولانا کے لیکچروں کا مجموعہ۔باراول مطبوعہ 1890 ءصفحہ 5،4) (ه) سرسید احمد خان مرحوم لکھتے ہیں:۔” جب کہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مستامن تھے۔کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے۔“ ( اسباب بغاوت ہند۔صفحہ 31 شائع کردہ سنگ میل پبلی کیشنز لا ہور ) (1) مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالوی اہل حدیث رقم طراز ہیں:۔علماء اسلام کا اسی مسئلہ میں اختلاف ہے کہ ملک ہند میں جب سے حکام والا مقام فرنگ فرمانروا ہیں۔اس وقت سے یہ ملک دارالحرب ہے یا دارالاسلام۔حنفیہ جن سے یہ ملک بالکل بھرا ہوا ہے۔ان کے عالموں اور