احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 340
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 340 حصہ دوم بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - کی روشنی میں یہ دلیل دی تھی کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی والہام کے دعویٰ کے بعد 23 سال کی لمبی عمر پائی جو آپ کی سچائی کی دلیل ہے۔اسی طرح میرے دعوی وحی والہام پر بھی 23 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔سوخدا نے مجھے ہلاک نہیں کیا۔حالانکہ اس آیت کی رُو سے خدا کا قانون ہے کہ وہ جھوٹے نبی کو اتنی مہلت نہیں دیتا جتنی مہلت اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔بلکہ اس مدت سے پہلے ہی اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اس پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کہ خدا تعالیٰ کی یہ وعید جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے اس کا تعلق اس وحی سے ہے جو شریعت کے اوامر ونواہی پر مشتمل ہو۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اربعین کی وہ عبارت لکھی ہے جسے مولوی ابوالحسن صاحب ندوی نے ادھورا پیش کیا۔وہ عبارت یہ ہے:۔ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا۔پس اس تعریف کی رُو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔مثلاً یہ الہام قـل لـلـمـؤمـنـيـن يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلک از کی لھم۔یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی۔اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور اربعین نمبر 4۔روحانی خزائن جلد صفحہ 435-436) واضح ہو یہ ساری عبارت بطور الزام خصم کے ہے کہ اگر لَوْ تَقُولَ والی وعید نہیں بھی۔