احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 329 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 329

329 حصہ دوم کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ یہ پیدائش جسے میں نے دیکھا ہے۔آسمانی اور ارضی تائیدات کی طرف اشارہ ہے۔۔۔۔اور ہم اس واقعہ سے وہ مراد نہیں لیتے جو وحدت الوجود ماننے والوں کی کتابوں میں مراد لیا جاتا ہے۔اور نہ اس واقعہ کو حلول کے قائل لوگوں کے مذہب کے مطابق مانتے ہیں۔بلکہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ہے۔میری مراد اس سے بخاری کی وہ حدیث ہے جو کہ خدا کے نیک بندوں کے لئے قرب نوافل کے مرتبہ کے بیان پر مشتمل ہے۔اس رویا کی تشریح جو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کردی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک کشفی واقعہ تھا جو آپ کے اس طرح فانی فی اللہ ہونے کو ظاہر کرنے والا تھا جس طرح اولیاء۔ابدال اور اقطاب خدا تعالیٰ کی ذات میں فانی ہوتے ہیں۔اور ان پر بعض اوقات ایسی حالت طاری ہو جاتی ہے کہ اُن کا اپنا وجود مخفی ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تجلیات ذاتیہ وارد ہو کر اسے اپنی ذات عین خدا نظر آتی ہے مگر وہ درحقیقت خدا نہیں بن جا تا بلکہ مراد اس سے صرف یہ ہوتا ہے کہ ظل نے اپنے اصل کی طرف رجوع کیا ہے۔اور فل پر اصل مستولی ہو گیا ہے اور ظل اصل میں غائب ہو گیا ہے۔جیسا کہ صیح بخاری کی حدیث میں وارد ہے:۔” ما زال عبدي يتقرب الى بالنوافل حتى أحْبَبْتُهُ فكنتُ سمعه الذي يسمع به وبصره الذى يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بھا“۔(بخارى كتاب الرقاق باب التواضع حدیث نمبر 6137) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔کہ نفل گزار بندہ میرے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس