احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 65 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 65

تعلیمی پاکٹ بک 59 65 حصہ اوّل کہ یہ جو حضرت مسیح کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور ان کی عمر 33 سال تھی اس کی کوئی متصل سند ایسی نہیں ملتی جس کی طرف رجوع واجب ہو۔نیز آپ زادالمعاد میں تحریر فرماتے ہیں۔لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقَامِ خَرُقِ الْعَوَائِدِ حَتَّى شُقَّ بَطْنُهُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَتَالَّمُ بِذلِكَ عُرِجَ بِذَاتِ ، رُوحِهِ الْمُقَدَّسَةِ حَقِيْقَةً مِنْ غَيْرِ إِمَاتَةٍ وَمَنْ سَواهُ لَا يَنَالُ بِذَاتِ رُوْحِهِ الصَّعُودُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْمَفَارَقَةِ فَالْانْبِيَاءُ إِنَّمَا اسْتَقَرَّتْ اَرُوَاحُهُمْ هُنَاكَ بَعْدَ مُفَارَقَةِ الْأَبْدَانِ وَرُوحُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَتْ إِلَى هُنَاكَ فِي حَالِ الْحَيَاةِ ثُمَّ عَادَتْ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ اسْتَقَرَّتْ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مَعَ أَرْوَاحِ الْأَنْبِيَاءِ۔(زاد المعاد جلد 3صفحه 36 الجهاد والمغازى۔تحقيق القول في أن الاسراء كان بجسده۔۔۔) چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خرق عادات کے مقام پر تھے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ پھاڑا گیا اس حال میں کہ آپ زندہ رہے اور اس سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی اور پھر حضور کو اپنی مقدس روح کے ساتھ حقیقت موت کے بغیر معراج ہوا اور آپ کے سوا کوئی اور شخص اپنی روح کے ساتھ آسمان کی طرف صعود صرف موت اور مفارقت بدن کے بعد ہی حاصل کرتا ہے۔پس تمام انبیاء کی ارواح نے آسمان پر موت اور مفارقت بدن کے بعد ہی قرار پکڑا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس روح نے زندگی کے عالم میں ہی آسمان پر صعود کیا۔پھر واپس آئی اور آپ کی وفات کے بعد رفیق اعلیٰ میں