احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 400
400 حصہ دوم ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔یہ احسان قرآن کا اُن پر ہے کہ اُن کو بھی نبیوں کے دفتر میں ہی لکھ دیا۔اس وجہ سے ہم اُن پر ایمان لائے کہ وہ بچے نبی ہیں اور برگزیدہ ہیں تہمتوں سے معصوم ہیں جو اُن پر اور اُن کی ماں پر لگائی گئی ہیں۔پھر آپ تحریر فرماتے ہیں:۔ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نورالقرآن کا جاری ہوا جس نے بجائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیبین وسید المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سُننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔لہذا محض ایسے یاوہ گو لوگوں کے علاج کیلئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور اُس کے پیارے تھے۔اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم پر دل و جان سے ایمان لائے تھے۔اور حضرت موسی کی شریعت کے صد ہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین اور آخرین کو معنی سمجھتا تھا۔یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سز ا لعنت ہے۔ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں