احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 324
ی علیمی پاکٹ بک 324 فَتَدَبَّرُ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَدَبِرِينَ (حمامة البشرى روحانی خزائن جلد 7 صفحه 221-222 حصہ دوم ترجمہ :۔”کیا عیسی زندہ ہے اور مصطفے وفات پاگئے ہیں۔یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے۔انصاف سے کام لو کہ انصاف تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔جب ثابت ہو گیا کہ انبیاء سارے کے سارے آسمانوں میں زندہ ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کو کیا خصوصیت حاصل ہے۔کیا وہ کھاتے اور پیتے ہیں؟ اور دوسرے سب نبی نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔اس سے بڑھ کر کلیم اللہ کی زندگی تو قرآن کریم کی نص سے ثابت ہے۔کیا تم قرآن میں نہیں پڑھتے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَابِه (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے ملاقات کے بارہ میں شک نہ کرنا ) اور تم جانتے ہو کہ یہ آیت حضرت موسی علیہ السلام کے بارہ میں نازل ہوئی۔پس یہ موسی علیہ السلام کی زندگی پر صریح دلیل ہے کیونکہ موسٰی علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور مُردے زندوں سے ملاقات نہیں کرتے۔اور تم اس جیسی آیات عیسی علیہ السلام کے بارہ میں نہیں پاؤ گے۔ہاں ان کی وفات کا ذکر مختلف مقامات میں آیا ہے۔پس تدبر سے کام لو۔بے شک اللہ تعالیٰ تدبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک تمام انبیاء علیہم السلام آسمانوں میں زندہ ہیں جیسا کہ حدیث معراج سے ثابت ہوا۔اور موسی علیہ السلام کی زندگی پر نص قرآنی بھی موجود ہے جو بتاتی ہے کہ معراج کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسی علیہ السلام سے جو ملاقات