احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 9 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 9

تعلیمی پاکٹ بک 9 حصہ اوّل جب وہ اس کی روح قبض کرے۔6 : تَوَفَّى اللهُ فُلَانًا أَى قَبَضَ رُوحَة- (الصحاح للجوهرى) ترجمہ : اللہ تعالی نے فلاں کو توفی کیا یعنی اس کی روح قبض کر لی۔7 : التَّوَفَّى : الْإِمَاتَةُ وقَبْضُ الرُّوحِ وَعَلَيْهِ الْإِسْتِعْمَالُ الْعَامَّةُ - (کلیات ابى البقاء صفحه 129) ترجمه : تَوَفَّی کے معنی ماردینا اور قبض روح ہیں۔اسی معنی کا عام استعمال ہے۔عربی لغت کی کتابوں کے ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ توفی کے فعل کا فاعل جب خدا ہو اور انسان پر یہ فعل وارد ہورہا ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا نے اس کی جان قبض کر لی یا اس کی روح قبض کر لی۔خدا کے فاعل اور انسان کے مفعول به ہونے کی صورت میں قبض جسم کے معنوں میں یہ لفظ عربی زبان میں استعمال نہیں ہوتا۔لہذا قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے جن دو مقامات میں مُتَوَفِّیک اور تَوَفَّيْتَنِی کے الفاظ وارد ہیں چونکہ ان میں خدا فاعل اور حضرت مسیح مفعول به ہیں لہذا ان دونوں جگہ تَوَفِّی کے ان صیغوں کے معنی وفات دینا ہی ہیں نہ کچھ اور۔واضح رہے کہ لغت میں تَوَفِّی کے معنی قَبضُ الشَّيْءِ وَافِيَا شَيْئاً کا پورا پورا لینا بھی ہیں۔چنانچہ جب تَوَفّی کا مفعول انسان نہ ہو بلکہ انسان کے علاوہ کوئی غیر ذی روح شے ہو اور فاعل بھی اس کا خدا نہ ہو تو تَوَفَّی کے معنی پورا پورا وصول کر لیتا ہوتے ہیں۔جیسے تَوَفَّيْتُ مِنْهُ حَقِی وَ تَوَفَّيْتُ مِنْهُ مَالِی یعنی میں نے اس سے اپنا حق یا اپنا مال پورا پورا وصول کر لیا ہے لیکن جب توفّی کا فاعل خدا ہو اور انسان اس کا مفعول یہ ہو جیسا کہ پہلے مذکور ہوا تو اس جگہ ہمیشہ قبض روح کے معنی ہی ہو سکتے ہیں۔جس کی دو صورتیں ہیں۔