احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 271 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 271

ندی تعلیمی پاکٹ بک 271 حصہ دوم تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ زمین ان پر چالیس سال کے لئے حرام کر دی گئی۔موسی علیہ السلام نے فرمایا تھا۔يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ - (المائدة : 22) اے قوم ! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ۔جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔( یعنی ارض کنعان) كَتَبَ الله لَكُمْ کے الفاظ صریح پیشگوئی پر دلالت کرتے ہیں۔مگر قوم کے جواب فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ (المائدة:25) کہ اے موسی تو اور تیرا خدا دونوں جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔اس پر خدا تعالیٰ نے ان کے رویے کو نا پسند کرتے ہوئے فرمایا۔قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيَهُونَ فِي الْأَرْضِ _ (المائدة: 27) كه بے شک یہ زمین ان کے لئے چالیس سال کے لئے حرام کر دی گئی ہے۔وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔کیا معترضین یہود کے اس جواب کو ” کہ تو اور تیرا خدا جا کر لڑو اور خود کوشش نہ کرنے کو پسندیدہ امر سمجھتے ہیں؟ اس بارہ میں قرآن کریم مترجم مولانامحمود الحسن صاحب دیو بندی کے صفحہ 177 فائدہ نمبر 2 کے تحت یہود کے اس جواب پر لکھا ہے:۔اسباب مشروعہ کا ترک کرنا تو کل نہیں۔تو کل تو یہ ہے کہ کسی نیک مقصد کے لئے انتہائی کوشش اور جہاد کرے اور پھر اس کے مثمر اور منتج ہونے کے لئے خدا پر بھروسہ رکھے اور اپنی کوشش پر نازاں اور مغرور نہ ہو۔باقی اسباب مشروعہ کو چھوڑ کر خالی امیدیں باندھتے رہنا تو کل نہیں بلکہ تعطل ہے“۔