احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 223 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 223

ی علیمی پاکٹ بک 223 پیشنگوئیوں میں ملہم اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے حصہ دوم (2) ملہم اپنے الہام کا بعض اوقات اپنے اجتہاد سے ایک مفہوم سمجھتا ہے لیکن اس کا یہ اجتہادی خیال درست نہیں ہوتا۔اس لئے اس کے اپنے اجتہادی معنوں میں تو وہ خبر غیب پوری نہیں ہوتی۔البتہ اصل الہام کے الفاظ میں بہر حال پوری ہو جاتی ہے اور واقعات الہامی الفاظ کی صحیح تعبیر کر دیتے ہیں۔قرآن کریم میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تیرے اہل کو غرق ہونے سے بچالوں گا۔جب اُن کا بیٹا غرق ہونے لگا۔تو انہوں نے خدا تعالے کو اس کا وعدہ اِن الفاظ میں یاد دلایا کہ:۔اِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ - (هود: 46) یعنی بے شک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ ( کہ میں تیرے اہل کو بچاؤں گا ) سچا ہے۔“ ان الفاظ میں اپنے بیٹے کے لئے بچائے جانے کی درخواست تھی۔اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ : إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَتَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ۔(هود: 47) یعنی یقیناً وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ عمل کے لحاظ سے صالح نہیں۔یا تیرا ایسی درخواست کرنا مناسب نہیں۔پس تو ایسی بات کے لئے جس کا تجھے علم نہیں مجھ سے درخواست مت کر۔میں تجھے (اس لئے) نصیحت کرتا ہوں کہ (مبادا) تم نادانوں میں سے ہو جاؤ۔“