احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 515 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 515

احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 515 حصہ دوم حديث ( يعنى لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَاءِ هِمُ مَسَاجِدَ )۔(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي ووفاته) سے ثابت ہے۔کہ درحقیقت وہ قبر حضرت عیسی علیہ السلام کی ہی قبر ہے۔جس میں مجروح ہونے کی حالت میں وہ رکھے گئے تھے۔ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحه 309) پس یہ وہ قبر ہے۔جس میں حضرت مسیح مُردہ ہونے کی حالت میں دفن نہیں کئے گئے تھے بلکہ مجروح ہونے کی حالت میں رکھے گئے۔اور چونکہ واقعہ صلیب سروشلم میں پیش آیا تھا۔اس لئے ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 309 پر یروشلم کی جس قبر کا ذکر ہے۔وہ وہی ہے جس میں حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں رکھے گئے تھے۔اور ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 309 کے حاشیہ میں جس قبر مسیح کا سرینگر میں بیان ہونا مذکور ہے۔وہ وہ قبر ہے جس میں آپ طبعی وفات پانے کے بعد دفن ہوئے۔اور تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح نے کشمیر میں ہجرت فرمائی تھی اور اسی سال سے زائد عمر وہاں بسر کی تھی۔اور پھر وفات پا کر خانیار کے محلہ میں دفن ہوئے تھے جہاں آج تک یو ز آصف نبی کے نام سے اُن کی قبر موجود ہے۔گلیل میں حضرت مسیح کے طبعی وفات پانے کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجیلی بیانات کے رُو سے کیا ہے۔چنانچہ ازالہ اوہام میں تحریر فرماتے ہیں:۔یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔بلکہ اسی باب کی تیسری آیت ظاہر کر رہی ہے کہ بعد فوت ہو جانے کے کشفی طور پر مسیح چالیس دن تک