احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 502
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 502 حصہ دوم اس سے بھی عجیب تر واقعہ امام ابن الربیع سے پیش آیا۔امام ملاعلی القاری موضوعات کبیر مترجم اردو صفحہ 209 مطبوعہ قرآن محل کراچی پر لکھتے ہیں :۔خَيْرُ السُّوْدَانِ ثَلَاثَةٌ لُقْمَانُ وَ بِلَالٌ وَ مُهْجَعٌ مَوْلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔رَوَاهُ الْبُخَارِي فِي صَحِيحِهِ عَنْ وَاثِلَةَ ابْنِ الْأَسْقَعِ بِهِ مَرْفُوعًا كَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ الرَّبِيعِ لَكُنْ قَوْلَ الْبُخَارِى سَهُوُ قَلَمِ إِمَّامِنَ النَّاسِخِ اَوْمِنَ الْمُصَنِّفِ فَإِنَّ الْحَدِيث لَيْسَ مِنَ الْبُخَارِى وَالَّذِى فِى الْمَقَاصِد إِنَّمَا هُوَ مَارَواهُ الْحَاكِمُ یعنی حدیث خَيْرُ السُّودَانِ ثَلاثَةٌ۔الخ“ کے متعلق امام ابن الربيع نے یہ بیان کیا ہے کہ اسے بخاری نے روایت کیا ہے(امام ملاعلی القاری فرماتے ہیں) لیکن بخاری کی طرف یہ بات منسوب کرنا سہو قلم ہے خواہ وہ ناقل کی طرف سے ہو یا مصنف کی طرف سے کیونکہ یہ حدیث صحیح بخاری میں نہیں ہے بلکہ جیسا کہ المقاصد میں مذکور ہوا اس حدیث کو صرف حاکم نے بیان کیا۔جب یہ حوالہ جات پیش کئے جائیں تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ غیر نبی کا سہو ہے مرزا صاحب تو نبی تھے۔جواب اس کا یہ ہے کہ نسیان اور سہوانبیاء سے بھی سرزد ہو جاتا ہے خضر اور موسٰی کے واقعہ میں موسی علیہ السلام خود اقرار کرتے ہیں:۔لَا تُؤَاخِذْنِى بِمَا نَسِيتُ (الكهف: 74) کہ میں بھول گیا ہوں مجھے مواخذہ نہ کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسى كَمَا تَنْسَوْنَ“۔(بخاری کتاب الصلوة باب التوجه نحو القبلة حيث كان )