احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 485
485 حصہ دوم کر دیا۔لہذا یہ یک طرفہ تحریر اب مولوی ثناء اللہ صاحب کے اس بیان کردہ طریق فیصلہ کو منظور نہ کرنے کی وجہ سے حجت نہیں رہی۔لہذا اعتراض باطل ہے۔اس خط کا مضمون یہ ہے:۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ: بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میری تکذیب تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پر چہ میں مردود، کذاب، دجال ، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے سراسر افتراء ہے۔میں نے آپ سے بہت دُکھا اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔اور مجھے ان گالیوں اور اُن تہمتوں اور اُن الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی نا کام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خُدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے