احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 484
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 484 حصہ دوم مولوی ثناء اللہ صاحب کا مباہلہ کرنے سے انکار اعتراض نمبر 20 بعض مخالفین احمدیت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے بددعا کی تھی کہ خدا مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں فیصلہ کر دے اور جھوٹے کو بچے کی زندگی میں ہلاک کر دے۔اور اس دعا کے متعلق یہ بھی ظاہر کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے:۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ“ الہذا مرزا صاحب کا مولوی ثناء اللہ صاحب پہلے وفات پا جانا ان کے اپنے دعوی میں جھوٹے ہونے کی دلیل ہے؟ الجواب واضح ہو کہ جس خط کی تحریر کا ایسے معترضین ذکر کرتے ہیں وہ اس سے پہلے بیانات کے سلسلہ کے لحاظ سے دعائے مباہلہ کا مسودہ تھی نہ کہ یک طرفہ دعا۔کیونکہ اس میں سنت اللہ کے موافق خدا تعالیٰ سے یہ فیصلہ چاہا گیا تھا کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہو۔اس لئے اس خط کے بعد جو خط مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف لکھا گیا تھا۔اس کا عنوان ” مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ قرار دیا تھا نہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق کے آخری فیصلہ۔آخری فیصلہ بذریعہ بددعا اسلام میں مباہلہ کی صورت میں ہی ہوتا ہے۔جس میں دوسرے فریق کی منظوری اور اس کی طرف بد دعا کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس خط کو اپنے اخبار اہلحدیث 26 اپریل 1907ء میں شائع کر کے اس کی منظوری سے انکار