احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 481 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 481

481 حصہ دوم 2 ” خدائے رحیم کہتا ہے کہ سلامتی ہے۔یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے۔اور یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مگی فتح نصیب ہوگی۔جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا۔اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔دوسرے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔خود بخو دلوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔فقرہ كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی۔مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیم مدینہ کی طرف“۔( بدر 19 جنوری 1906 ء صفحہ 2 کالم نمبر 1 - 2 - تذکرۃ صفحہ 503 مطبوعہ 2004ء) کسی الہام کی تشریح میں ملہم کی اپنی تشریح کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس جگہ مکہ اور مدینہ کے لفظ مجازاً استعمال ہوئے ہیں نہ حقیقہ۔اور مجازی استعمال میں بڑی وسعت ہے۔مجاز میں کبھی جگہ کا ذکر کر کے اس کے مکین مُراد ہوتے ہیں اور کبھی جگہ کا ذکر کر کے اس جگہ کی حالت مُراد ہوتی ہے۔یہ دونوں صورتیں مجاز کی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔تِلْكَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَابِهَا (الاعراف : 102) کہ ان بستیوں کی یعنی ان بستیوں کے مکینوں کی آئندہ کی حالت تجھے پر بیان کرتے ہیں۔اس آیت میں قریہ سے مکین قریہ مراد ہیں۔دوسری آیت میں فرماتا ہے:۔وَسُلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ - (الاعراف: 164) اور مراد یہ نہیں کہ قریہ والوں سے پوچھو۔بلکہ قریہ بول کر دراصل قریہ