احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 456
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 456 حصہ دوم گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی خاص علامات میں سے اُمی نبی ہونا ہے۔چنانچہ حضرت موسق کا حضرت خضر علیہ السلام سے تعلیم پانا قرآن کریم کی سورۃ کہف میں موجود ہے۔حالانکہ موسی علیہ السلام صاحب شریعت نبی تھے۔اور حضرت خضر کی نبوت مختلف فیہا ہے۔تغییر حسینی میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت داؤد علیہا السلام پر کتاب جو ایک بار اتری تو وہ لکھتے پڑھتے تھے اور ہمارے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمی تھے۔( تفسیر حسینی مترجم اردو جلد 2 صفحه 140 زیر آیت وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلا - الفرقان:۳۳) اسی طرح بیضاوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھا ہے: کان امتیا“۔اور حضرت موسی علیہ السلام حضرت داؤڈ اور حضرت عیسی کے متعلق لکھا ہے:۔وو كَانُوا يَكْتُبُونَ“ کہ وہ لکھے پڑھے تھے۔تفسیر بیضاوی میں زیر آیت هَلْ اتَّبِعُكَ (سُورۃ کہف) لکھا ہے:۔وَلَا يُنَا فِي نُبُوَّتَهُ وَ كَوْنَهُ صَاحِبَ شَرِيعَةٍ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْ غَيْرِهِ مَالَمْ يَكُنْ شَرُطًا فِي أَبْوَابِ الدِّينِ (تفسیر بیضاوی جلد 1 تفسیر سورة الكهف زیر آیت: 66 - مطبع دار احیاء التراث العربی ) یعنی حضرت موسی کا کسی غیر سے ایسا علم سیکھنا جو امور دین میں سے نہ ہوان کی نبوت اور ان کے صاحب شریعت ہونے کے منافی نہیں ہے۔پھر تفسیر حسینی میں ہے کہ رسول ایسا چاہیئے۔کہ جن کی طرف بھیجا گیا ہے ان سے ان اصول و فروع دین کا عالم زیادہ ہو جو اُن کی طرف لایا ہے اور جو علم اس قبیل سے نہیں اس کی تعلیم امور نبوت کے منافی نہیں اور انتُم أَعْلَمُ بِأُمُورِ