احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 454 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 454

454 حصہ دوم ابوالحسن صاحب ندوی مثیل مسیح کے دعوی کو 1891ء سے قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ دعویٰ براہین احمدیہ میں موجود ہے۔پس مثیل مسیح کے دعوی کو ترک نہیں کیا گیا۔بلکہ 1891ء میں اپنے مثیل مسیح ہونے کو ہی مسیح موعود الہامات جدیدہ کی روشنی میں قرار دیا گیا ہے۔پس مولوی ابوالحسن صاحب کا یہ قول بالکل غلط ہے کہ:۔یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے حکیم صاحب کی اس تجویز کو قبول کر لیا اور تھوڑے ہی دنوں میں انہوں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ اور اعلان کر دیا۔( قادیانیت از سیدابوالحسن ندوی صفحہ 70 ناشر مکتبہ د بنیات لاہور باراؤل) قارئین پر واضح ہو کہ مثیل مسیح کا دعویٰ تو سات آٹھ سال پہلے موجود تھا۔اب اعلان یہ ہوا ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں اور مسیح موعود کے لئے مثیل مسیح ہونا ضروری تھا۔لہذا عیسی بن مریم کا اصالتاً آمد کا خیال درست نہیں۔پس یہ اعلان آپ نے الہامات کی روشنی میں کیا ہے نہ کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے۔بلکہ جومشورہ انہوں نے ابتلاء سے ڈر کر دیا ہے۔اُسے تو آپ نے رڈ کر دیا ہے اور ابتلاء کوترقیات کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔لہذا ابوالحسن صاحب کو اپنے یہ الفاظ دل و جان سے قبول کر لینے چاہئیں:۔ان کے ( یعنی حضرت مرزا صاحب ) خط سے جس کسر نفسی ، تواضع اور خشیت کا اظہار ہوتا ہے۔وہ بڑی قابل قدر چیز ہے۔اور اس سے مرزا صاحب کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے مولوی ابوالحسن صاحب ندوی کے قلم سے خود ایک حوالہ براہین احمدیہ سے قادیانیت کے صفحہ 47 پر درج کرا دیا ہے جو اس بات پر شاہد ناطق