احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 444
444 حصہ دوم عَلَيْهِ وَكَذَّبَتْهُ قُرَيْسٌ ( تفسیر کمالین بر حاشیه جلالین صفحہ 241 مجتبائی) ترجمه : مجاہد سے مروی ہے یہودیوں نے قریش سے کہا اس نبی سے روح، اصحاب کہف اور ذی القرنین کے متعلق سوال کرو۔پس انہوں نے سوال کیا تو نبی کریم نے فرمایا۔کل آنا میں تمہیں بتاؤں گا۔اور کوئی استثناء نہ کیا تو وحی چند دن تک رکی رہی۔یہاں تک کہ یہ امر آپ پر شاق گزرا اور قریش نے آپ کو جھٹلایا۔( حدیث دوم ) مشكواة كتاب التصاوير صفحہ 385 مجتبائی دہلی میں ہے کہ جبریل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کو آنے کا وعدہ کیا۔مگر حسب وعدہ نہ آئے۔دوسرے دن جب آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:۔لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلَقَّانِي فِي الْبَارِحَةِ قَالَ أَجَلُ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آپ تو کل آنے کا وعدہ کر گئے تھے۔جبریل نے کہاہاں وعدہ تو کیا تھا مگر ہم ایسے مکان میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔پہلی روایت سے ظاہر ہے کہ وحی نہ آنے کی وجہ سے جس میں خدا کی کوئی مصلحت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن تینوں سوالوں کا کوئی جواب نہ دے سکے۔اور دوسری روایت سے بھی ظاہر ہے کہ تبدیلی حالات کی وجہ سے جبریل وعدہ ایفاء نہ کر سکے۔پس جب وعدہ کرنے والا اپنی کسی بدنیتی سے وعدہ پورا نہ کر سکے تو تب قابل مواخذہ ہوتا ہے ورنہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ میں مشیت الہی