احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 435
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 435 حصہ دوم نصوص حدیثیہ سے ثابت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ بے شک میں اپنی قبر میں (مردہ) نہ چھوڑا جاؤں گا تین دن تک یا چالیس دن تک باختلاف روایت ( دیکھئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے مردہ کا لفظ استعمال فرماتے ہیں جو تحقیر کے لئے نہیں بلکہ اظہارِ حقیقت کے لئے ہے۔اسی طرح اقتباس میں حضرت علی کے لئے مردہ کا لفظ استعمال ہوا) بلکہ میں زندہ کیا جاؤں گا اور آسمان کی طرف اُٹھایا جاؤں گا۔حالانکہ اے مخاطب ! تُو جانتا ہے کہ آپ کا جسم عصری مدینہ میں مدفون ہے۔پس اس حدیث کے معنے بجز روحانی زندگی اور روحانی رفع کے جو خدا تعالیٰ کی اپنے اصفیاء سے ان کو وفات دینے کے بعد سنت ہے اور کچھ نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا ہے کہ اے نفس مطمئنہ ! تو اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔۔۔اور اللہ کی یہ جاری عادت ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کا ان کی موت کے بعد اپنی طرف رفع کرتا ہے اور انہیں آسمانوں میں ان کے مرتبہ کے مطابق جگہ دیتا ہے۔سر الخلافہ میں آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عباد المقربین میں سے قرار دیا ہے اور حمامة البشری میں عباد الله الصالحین کو مرفوع الی اللہ قرار دیتے ہوئے روحانی لحاظ سے آسمان میں زندہ قرار دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اقتباس زیر بحث میں حضرت علیؓ کے لئے مردہ کا لفظ تحقیر استعمال نہیں ہوا بلکہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے استعمال ہوا ہے کہ جسمانی لحاظ سے آپ زندہ نہیں۔پس ان کی خلافت کو زیر بحث لانا اور امام وقت الامام المہدی کا انکار کرنا بے وقت کی راگنی ہے۔