احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 434 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 434

ندی علیمی پاکٹ بک 434 حصہ دوم وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ آفَابِنُ مِتَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ - (الانبياء: 35) کہ ہم نے کسی بشر کو تجھ سے پہلے ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔پس کیا اے نبی اگر تو مر جائے۔تو یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں! نیز فرمایا:۔إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَّيْتُوْنَ۔(الزمر: 31) کہ بے شک تو بھی مر جانے والا ہے اور یہ لوگ بھی مرجانے والے ہیں۔پس جسمانی موت سے کسی نبی اور ولی کو مفر نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک تمام اصفیاء روحانی لحاظ سے آسمان میں زندہ ہیں جیسا کہ حمامۃ البشری میں تحریر فرماتے ہیں:۔تم اعلموا أيها الاعزة ان حيات رسُولنا صلى الله عليه وسلّم ثابت بنصوص حديثية وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلّم اني لا أُترك مَيْتًا في قبرى الى ثلاثة ايام او اربعين باختلاف الرواية بل أحْيَا وأَرْفَعُ الى السماءِ وأَنْتَ تَعْلَمُ انّ جسمه العنصري مدفون في المدينة فما معنى هذا الحديث الا الحيات الروحاني ورفع الروحاني الذي هو سُنّة الله باصفيائه بعد ما توفَّاهُمُ كما قال يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ۔۔۔۔۔وقد جَرَتْ عادت الله تعالى انه يرفع اليه عباده الصالحين بعد 66 موتِهم ويُؤويهم فى السموات بحسب مراتبهم۔(حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 220-221) ترجمہ:۔اے پیارو! جان لو کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی