احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 433 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 433

د تعلیمی پاکٹ بک 433 حصہ دوم كأس الفرقان وَأُعْطِيَ لَهُ فَهُمْ عجيب لادراک دقائق القرآن“۔(سر الخلافة_روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 358) ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ تھی اور تقی تھے ان لوگوں میں سے جو رحمن خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور منتخب خاندان میں سے تھے۔اپنے زمانے کے سرداروں میں سے ، خدا کے غالب شیر تھے۔اور خدائے حتان کے جوان تھے۔سخی ، خوش دل اور یگانہ بہادر تھے جو میدان سے نہیں ہٹتے تھے خواہ ان کے مقابلہ میں دشمنوں کی ایک فوج ہو اور جس نے آپ کے کمالات کا انکار کیا تو وہ بُرے طریق پر چلا آپ خدا کے مقرب بندوں میں سے تھے اور اس کے ساتھ ہی اُن سابقین میں سے تھے جنہوں نے فرقان کا پیالہ چوس کر پیا اور آپ کو قرآنی دقائق کا عجیب فہم عطا کیا گیا تھا“۔اسی سلسلہ میں سرالخلافہ صفحہ 359 پر آپ تحریر فرماتے ہیں:۔وَلِى مُنَاسَبَةٌ لَطِيفَةٌ بِعَلِيِّ وَالْحَسْنَيْنِ ولا يعلم سرَّهَا إِلَّا رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ وَإِنِّى أُحِبُّ عَلِيًّا وَابْنَاهُ وَأَعَادِي مَنْ عَادَاهُ یعنی مجھے حضرت علی اور حسنین سے ایک لطیف مناسبت ہے اور اس کے راز کو صرف دو مشرقوں اور مغربوں کا رب ہی جانتا ہے۔اور میں علی اور اس کے دونوں بیٹوں سے محبت رکھتا ہوں اور جو آپ سے دشمنی رکھے اُس کا دشمن ہوں“۔ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت علیؓ کے لئے مُردہ کا لفظ وفات یافتہ کے معنوں میں استعمال کر رہے تھے نہ تحقیر کے معنوں میں۔اور وفات کے معنوں میں یہ لفظ انبیاء کے حق میں بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔جیسا کہ فرمایا:۔