احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 413
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 413 حصہ دوم مُردار ڈالا جانے کا ذکر ہے۔اور دوسری میں یہ ذکر ہے کہ پنیر کے متعلق یہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔یہ دونوں حدیثیں درج ذیل ہیں:۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ مَكَةَ رَأَى جُبْنَةً قَالَ مَا هَذا فَقَالُوا طَعَامٌ يُصْنَعُ بِأَرْضِ الْعَجُمِ فَقَالَ ضَعُوا فِيْهِ السِّكِّيْنَ وَكُلُوا وَرَوَى أَحْمَدُ وَالْبَيْهِقُى عَنْهُ أُوتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ بِغَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ أَيْنَ صُنِعَتُ هذه۔قَالُوُ بِفَارِسَ وَنَحْنُ نَرَى أَنْ يُجْعَلَ فِيْهَامَيْتَةٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَطْعِمُوا وَفِي رِوَايَةٍ ضَعُوا فِيهَا السَّكِيْنَ وَاذْكُرُواسْمَ اللَّهِ تَعَالَى وَكُلُوا۔قَالَ الْخَطَّابِيُّ اَبَاحَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَاهِرِ الْحَالِ وَلَمْ يَمْتَنِعُ مِنْ أَكْلِه“۔زرقانی شرح المواہب اللہ نیہ جلد 4 صفحہ 335) ترجمہ:۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے پنیر دیکھ کر فرمایا۔یہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا یہ کھانا ہے جو عجمی علاقہ میں تیار کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا۔اس میں چھری رکھو اور اسے کھاؤ ( یعنی چھری سے کاٹ کر کھاؤ اور احمد اور بیہقی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غزوہ تبوک میں پنیر پیش کیا گیا۔تو آپ نے پوچھا۔یہ کہاں تیار ہوا ہے۔صحابہ نے کہا۔فارس میں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ اِس میں مُردار ڈالا جاتا ہے۔(یعنی مُردار کی چربی ) حضور نے فرمایا کھاؤ۔اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا۔اس میں چھری رکھو اور اللہ کا نام لے کر کھاؤ“۔ان حدیثوں کی بنا پر خطابی نے کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے