احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 412
412 حصہ دوم احمدیہ علیمی پاکٹ بک اور بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رُوح کی صفائی کرو۔صرف جسم کی صفائی اور کپڑے کی صفائی بہشت میں داخل نہیں کرے گی۔اور فرمایا کرتے تھے کپڑوں کے پاک کرنے میں وہم سے بہت زیادہ مبالغہ کرنا اور وضوء پر بہت پانی خرچ کرنا اور شک کو یقین کی طرح سمجھ لینا۔یہ سب شیطانی کام ہیں اور سخت گناہ ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم کسی مرض کے وقت میں اونٹ کا پیشاب بھی پی لیتے تھے۔فقط خوابوں کی تفصیل اور تعبیر کرنے کی گنجائش نہیں۔اتنا لکھنا کافی ہے کہ سب خوا ہیں اچھی ہیں۔بشارتیں ہیں۔کوئی بُری نہیں۔والسلام۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان“۔( منقول از اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1944 صفحہ 9) اس خط کے منقول سے ظاہر ہے کہ اسلام نے شک و شبہ کو اہمیت نہیں دی۔صرف یقین کو اہمیت دی ہے۔جب تک یقین نہ ہو بعض اشیاء کا ترک واجب نہیں ہے۔انہیں میں وہ پنیر تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھا لیتے تھے۔حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک یقین نہ ہو ہر ایک چیز پاک ہے محض شک سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔اپنے طرز عمل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت پر عظیم الشان احسان فرمایا ہے۔تا امت پر تنگی وارد نہ ہو۔اور دین میں آسانی رہے۔اصولی ہدایت آپ کی یہی ہے کہ الدِّينُ يُسر کہ دین آسان ہے۔قرآن کریم میں بھی یہی ہدایت کی گئی ہے۔کہ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا کہ ظنيات پر بنیاد نہ رکھی جائے بلکہ یقین پر کسی عمل کی بنیاد رکھی جائے۔کیونکہ یقین کے مقابل پر ظن کی کوئی حیثیت نہیں۔اس سلسلہ میں جو روایات ہیں۔ان میں سے ایک روایت میں پنیر میں