احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 20
تعلیمی پاکٹ بک استدلال: 20 20 حصہ اول 4 اس آیت سے ظاہر ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت خدا تعالیٰ کے سوا جن لوگوں کی پرستش ہو رہی تھی انہیں اموات کہہ کر مُردہ قرار دیا گیا ہے اور غَيْرُ احیاء کہہ کر ایسے مُردے قرار دیا جو زندہ نہ ہوں یعنی در حقیقت وفات پاچکے ہوں اور مَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ کہہ کر یہ ظاہر کیا کہ اب وہ قیامت کو دوبارہ زندہ ہوں گے۔لیکن انہیں علم نہیں کہ قیامت کب ہوگی۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام اور اُنکی والدہ کی اُس وقت پرستش کی جارہی تھی لہذا وہ دونوں اموات کہ میں داخل ثابت ہوئے اور وفات یافتہ قرار پائے اگر حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہوتے تو یہ حل تھا کہ ان کا أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء کے بعد إِلَّا عِیسی کہہ کر استثناء کیا جاتا یعنی عیسی کے سوا باقی جن کی پرستش کی جاتی ہے مردہ ہیں زندہ نہیں لیکن اس استثناء کا موجود نہ ہونا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی اَمْوَاتٌ غَيْرُ احیاء میں داخل ہیں۔پس یہ آیت بھی ان کی وفات پر روشن دلیل ہے۔وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنُ ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (آل عمران : 140) ترجمہ : اور نہیں ہیں محمد علی مگر اللہ کے رسول۔ان سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں اگر وہ مر جائیں یا قتل ہوں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے؟ استدلال: اس جگہ سب رسولوں کے گزر جانے سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلحم سے پہلے آنے والے تمام رسول وفات پاچکے ہیں کوئی ان میں سے زندہ نہیں۔