احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 19
تعلیمی پاکٹ بک 19 حصہ اوّل ہوتے بلکہ خدا کے فاعل اور ذی روح کے مفعول ہونے کی صورت میں وفات دینا ہی ہوتے ہیں۔:9 ماسوا اس کے جب ہر زندہ انسان ہر آن مع روح و جسم ہمیشہ خدا کے تصرف اور قبضہ میں ہے تو پھر متوفی کے لفظ سے حضرت مسیح علیہ السلام کو آئندہ خدا کے قبضہ میں لے لینے کا وعدہ تحصیل حاصل ہے کیونکہ جو چیز پہلے سے حاصل ہو اس کے متعلق یہ وعدہ کرنا کہ وہ آئندہ تمہیں حاصل ہوگی ایک لغو بات ہے۔ہم یہ بھی بتا چکے ہیں کہ رفع کا فاعل جب خدا ہو اور انسان اس کا مفعول ہو تو اس کے معنی اس انسان کا جسم آسمان پر اٹھا لینے کے نہیں ہوتے خواہ رفع کے ساتھ السَّمَاء کا لفظ بھی موجود ہو جو یہاں موجود نہیں بلکہ اس کے معنی خدا تعالیٰ کا اُسے بلندی درجات دینا ہوتے ہیں۔خواہ یہ درجات زندگی میں حاصل ہوں یا مرنے کے بعد حاصل ہوں۔ہاں رفع کی تکمیل بعد از وفات ہی ہوتی ہے۔پس مُتَوَفِّيكَ كے بعد وَرَافِعَكَ إِلَى کا وعدہ صرف یہ مفہوم رکھتا ہے کہ خدا نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اس وعدہ سے تسلی دی کہ یہودی تمہیں صلیب پر مار نہیں سکتے میں تمہیں طبعی وفات دوں گا اور تمہاری روح کا رفع کروں گا اور تمہارے درجات اپنے حضور بلند کروں گا۔۔3 وَالَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ - اَمْوَاتُ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ - (النحل : 22،21) ترجمہ: اور اللہ کے سوا جن معبودان باطلہ کو وہ پکارتے ہیں وہ کچھ (بھی) پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں وہ (سب) مُردے ہیں نہ کہ زندہ اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے۔