احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 374
374 حصہ دوم جہاد کی منسوخی ، انگریزوں کی خوشامد اور ان کی طرف سے کھڑا کئے جانے کا الزام الجواب: -1 اس الزام کے جواب میں واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کو جو قرآن میں مسلمانوں کے لئے فرض قرار دیا گیا ہے، ہرگز منسوخ نہیں کیا۔جہاد کا مادہ جہد بمعنی کوشش کرنا ہے۔اور دین کی راہ میں ہر وہ کوشش جو کی جائے یہ مجاہدہ جهاد فی سبیل اللہ ہی ہے۔کیونکہ جہاد مکہ میں فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَجَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا - (الفرقان: 55) کے ذریعہ ان معنوں میں فرض ہو چکا تھا کہ قرآن کی اشاعت کرو۔جہاد بمعنی قال (جنگ)۔مدینہ منورہ میں آیت جہاد فی سبیل اللہ کو صرف قتال یعنی جنگ میں محدود قرار دینا از روئے قرآن مجید درست نہیں۔کیونکہ قتال مدینہ میں جا کر فرض ہوا تھا جبکہ یہ آیت نازل ہوئی:۔أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج: 40) مدافعت کے لئے فرض ہوا اور صاف طور پر ہدایت کی گئی قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - (البقرة: 190) اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔اور زیادتی نہ کرو اور یاد رکھو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں سے ہرگز محبت نہیں رکھتا۔