احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 348 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 348

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 348 حصہ دوم مانتا۔یا کافر کے ہم ہرگز یہ معنے <mark>نہی</mark>ں لیتے کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کا منکر ہوتا ہے۔جب کوئی شخص کہتا ہو کہ میں خدا تعالیٰ کو مانتا ہوں۔تو اسے کون کہہ سکتا ہے کہ تو خدا تعالیٰ کو <mark>نہی</mark>ں مانتا۔ہمارے نزدیک اسلام کے اصول میں سے کسی اصل کا انکار کفر ہے جس کے بغیر کوئی شخص حقیقی طور پر مسلمان <mark>نہی</mark>ں کہلا سکتا۔ہمارا یہ عقیدہ ہر گز <mark>نہی</mark>ں کہ کافر جہنمی ہوتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ ایک کافر ہو اور وہ جنتی ہو۔مثلاً منکر ہے وہ ناواقفیت کی حالت میں ساری عمر رہا ہو۔اور اس پر اتمام حجت نہ ہوئی ہو۔پس گو ہم ایسے شخص کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ کا فر ہے مگر خدا تعالیٰ اُسے دوزخ میں <mark>نہی</mark>ں ڈالے گا کیونکہ اسے حقیقی دین کا کچھ علم نہ تھا اور خدا ظالم <mark>نہی</mark>ں کہ وہ بے قصور کو سزا دے“۔خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفہ اسیح ال<mark>ثانی</mark> رضی اللہ عنہ مندرجہ الفضل یکم مئی 1935 ، صفحہ 8 کالم نمبر 3) مولوی ابوالحسن صاحب نے احمدی کے غیر احمدی کولڑ کی نہ دینے کا معاملہ اور غیر احمدی کے پیچھے نماز کی ممانعت کا معاملہ اور غیر احمدی کے جنازے کا معاملہ بھی پیش کیا ہے۔مگر ان معاملات میں جماعت کی یہ کارروائی جوابی ہے۔جو دراصل غیر احمدی علماء کے فتاویٰ کفریہ کا رد عمل ہے جن میں احمدیوں سے مناکحت حرام۔احمدیوں کو امام بنانا حرام قرار دیا گیا۔ان کے جنازے پڑھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فتویٰ تکفیر میں ہرگز ابتداء <mark>نہی</mark>ں کی اور نہ باقی فتاویٰ میں ابتداء کی ہے۔آپ حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں:۔پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے <mark>نہی</mark>ں کروڑ مسلمان اور کلمہ گوکو کافر ٹھہرایا۔حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت <mark>نہی</mark>ں ہوئی۔خود ہی اُن کے علماء نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور تمام پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ