احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 339
ندی تعلیمی پاکٹ بک 339 حصہ دوم اسی شان کا بالواسطہ صاحب شریعت <mark>مسیح</mark> موعود کو سمجھنا چاہیے نہ کہ شریعت مستقلہ کا حامل جس سے تشریعی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہونا لازم آتا ہے۔افسوس ہے کہ مولوی ابوالحسن صاحب نے ارب<mark>عین</mark> کا حوالہ پورا پیش <mark>نہی</mark>ں کیا۔حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام آگے لکھتے ہیں :۔”میری تعلیم میں <mark>امر</mark> بھی ہے اور <mark>نہی</mark> بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔(ارب<mark>عین</mark> نمبر 4۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 حاشیہ) پھر ارب<mark>عین</mark> میں زیر بحث حوالہ کے ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں:۔”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام <mark>نہی</mark>ں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی مامور کے ذریعہ یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔جھوٹی گواہی نہ دو۔زنانہ کرو۔خون نہ کرو۔اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا شریعت ہے۔جو <mark>مسیح</mark> موعود کا بھی کام ہے۔ارب<mark>عین</mark> نمبر 4۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 436) پس <mark>مسیح</mark> موعود ان معنوں میں صاحب شریعت ہیں کہ اُن کے ذریعہ بیانِ شریعت مقدر تھا نہ اتیانِ شریعت مستقلہ (شریعت لا نا )۔پس مولوی ابوالحسن صاحب ندوی جیسے عالم کا ارب<mark>عین</mark> کی عبارت سے <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام پر تشریعی اور مستقلہ نبوت کا الزام دینا تعجب انگیز ہے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے کسی معاون نے ادھورے ح<mark>والے</mark> اُن کے سامنے پیش کئے ہیں۔اب ہم ارب<mark>عین</mark> کے ح<mark>والے</mark> کو پیش کر کے اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ حضور نے اپنے تئیں کیوں صاحب شریعت لکھا۔سو واضح ہو کہ اس کتاب میں حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام نے اپنی صداقت کی نسبت آیت ” لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا