احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 328
328 حصہ دوم اشارة الى تائيدات سماويّة وارضيَّة۔۔۔۔۔ولا نَعْنِى بهذه الواقعة كما يُعنى فى كُتُبِ اَصْحَابِ وحدة الوجودِ وما نَعْنِی بذالک ماهومذهب الحلوليين بل هذه الواقعة تُوافِقُ حديث النبي صلى الله عليه وسلم أغنى بذالک حدیث البخاري فی بیان مرتبة قرب النوافل لعباد الله الصالحين آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه 564 تا 566) ترجمہ: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا۔۔۔عین اللہ سے مراد میری ظل کا اپنے اصل کی طرف رجوع کرنا اور اس کی طرف غائب ہوجانا ہے۔جیسا کہ اس قسم کے حالات خدا کے پیاروں پر بعض اوقات جاری ہوتے ہیں۔اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ایک اچھے نظام کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اُس نے مجھے اپنی ذاتی تجلی سے بمنزلہ اپنی مشیت اپنے علم اور اپنے جوارح اور بمنزلہ اپنی تو حید و تفرید کے بنالیا۔اپنی مراد کو پورا کرنے اور اپنے وعدوں کی تکمیل کے لئے جیسا کہ اس کی عادت ابدال اور اقطاب اور صدیقوں کے لئے جاری ہے۔پس میں نے دیکھا کہ اس کی روح نے میرا احاطہ کر لیا ہے اور اس نے میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا ہے۔یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہیں رہا اور میں غائبین میں سے ہو گیا۔۔۔اس اثناء میں کہ میں اس حالت میں تھا میں کہتا تھا کہ ہم ایک نیا نظام ، نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔پس میں نے آسمانوں اور زمین کو پہلے اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی تفریق اور ترتیب موجود نہ تھی۔پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس