احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 325
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 325 حصہ دوم ہوئی۔شکی امر نہ تھا بلکہ یہ ملاقات یقینی تھی۔انبیاء کی اس زندگی کو جو آسمانوں میں پائی جاتی ہے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی سے مختلف قسم کی قرار نہیں دیا۔بلکہ اس زندگی کو روحانی زندگی ہی تسلیم کیا ہے جو انبیاء کو بعد از وفات ملتی ہے۔66 پھر آپ آئینہ کمالات اسلام کے اشتہار ”قیامت کی نشانی“ میں جسے صفحہ 604 کےآگے شائع کیا ہے صفحہ اور پر تحریر فرماتے ہیں:۔انبیاء تو سب زندہ ہیں۔مُردہ تو اُن میں سے کوئی بھی نہیں۔معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی لاش نظر نہ آئی۔سب زندہ تھے۔دیکھئے اللہ جل شانہ اپنے نبی کریم کو حضرت موسی علیہ السلام کی زندگی کی قرآن کریم میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے۔فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَابِه (السجدة: 24) اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہونے کے بعد اپنا زندہ ہو جانا اور آسمان پر اُٹھائے جانا اور رفیق اعلیٰ کو جاملنا بیان فرماتے ہیں۔پھر حضرت مسیح کی زندگی میں کونسی انوکھی بات ہے جو دوسروں میں نہیں۔معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسی کو حضرت یحیی کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔خدا تعالیٰ مولوی عبدالحق محدث دہلوی پر رحم کرے وہ ایک محدث وقت کا قول لکھتے ہیں کہ ان کا یہی مذہب ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہو کر کسی دوسرے نبی کی حیات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات سے قوی تر سمجھے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے یا شاید یہ لکھا ہے کہ قریب ہے کہ وہ کافر ہو جائے“۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 610-611) پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کی آسمانی