احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 311 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 311

311 حصہ دوم گا، اور کبھی کچھ مہلت دونگا۔اس شخص کی مانند جو کبھی کھاتا ہے اور کبھی روزہ رکھ لیتا ہے اور اپنے تئیں کھانے سے روکتا ہے اور اس قسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں۔جیسا کہ ایک حدیث میں لکھا ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا۔میں بیمار تھا۔میں بھوکا تھا، میں ننگا تھا۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 107 ) رسالہ دافع البلاء میں اس کی تشریح میں تحریر فرماتے ہیں :۔میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تو میں افطار کروں گا۔یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔دافع البلاء روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 227-228) حقیقۃ الوحی کی عبارت میں جس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے صحیح مسلم میں ان الفاظ میں مندرج ہے:۔عن ابي هريرة قال قال رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي يَابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمُنِي يَابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي - (مسلم) كتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض) ترجمہ :۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو کہے گا۔اے ابن آدم میں بیمار تھا تو نے میری تیمار داری نہ کی۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے نہ پلایا۔