احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 310
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 20 الہام نمبر 5: ” رَبُّنَا عَاج“ 310 حصہ دوم تشریح:۔اس الہام میں لفظ عاج نہیں جس کے معنی ہاتھی دانت کے ہوتے ہیں۔بلکہ عالج ہے۔ج کی تشدید سے ہے۔اور عائج کے معنے پکارنے والا یا آواز دینے والا۔مراد یہ ہے کہ ہمارا خدا دنیا کو اپنی طرف بآواز بلند دعوت دینے والا ہے۔عائج کے معنے دودھ کے ذریعہ غذا دینے والے کے بھی ہیں۔اس صورت میں مراد یہ ہے کہ اللہ مخلوق کو ان کی بیکسی کی حالت میں روحانی دودھ یا غذا پہنچانے والا ہے۔یہ دونوں معنے بلحاظ لغت درست ہیں۔اگر یہ لفظ عج۔عَجَّا وَعَجِيْجًا سے مشتق سمجھا جائے تو اس کے معنے بلند آواز سے پکارنے والا ہو نگے۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ افـضـل الـحـج الـعـج کہ حج میں افضل ترین آواز تلبیہ اور لبیک کہنا ہے۔اگر عاج ناقص واوی عَجَا يَعْجُوا سے اسم فاعل سمجھا جائے تو اس کے معنے ہوں گے دودھ پلانے والا۔چنانچہ کہتے ہیں۔عَجَتِ الأمُّ الْوَلَدَ - أَى سَقَتْهُ اللبن یعنی ماں نے بچہ کو دودھ پلایا۔اَلْعَجْوَةُ کے معنے قاموس میں لکھے ہیں۔لَبَنٌ يُعَالَجُ بِهِ الصَّبِيُّ الْيَتِيمُ أَى يُغَذِّى یعنی وہ دودھ مراد ہے جس سے یتیم بچہ کی پرورش کی جاتی ہے۔یعنی وہ اسے بطور غذا دیا جاتا ہے۔الهام نمبر 6: أفَطِرُ وَ اَصُومُ یعنی خدا کہتا ہے کہ میں روزہ کھول بھی دیتا ہوں اور رکھ بھی لیتا ہوں۔تشریح :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔ظاہر ہے کہ خدا روزہ رکھنے اور افطار کرنے سے پاک ہے۔اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔پس یہ صرف ایک استعارہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی میں اپنا قہر نازل کروں