احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 11
11 حصہ اوّل تعلیمی پاکٹ بک کی اس کے مخالف نہیں کوئی مثل اور قول اہل زبان کا اس کے مغائر نہیں۔غرض ایک ذرہ احتمال مخالف کے گنجائش نہیں اگر کوئی شخص قرآن کریم یا کسی حدیث رسول اللہ صلعم سے یا اشعار وقصائد ونظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرع کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔۔۔۔۔۔اس اشتہار کے مخاطب خاص طور پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں جنہوں نے غرور اور تکبر کی راہ سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے پورا لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑ نا بلکہ سب کو بحیثیت کذائی اپنے قبضہ میں زندہ اور صحیح سلامت لے لینا۔سواسی معنی سے انکار کر کے یہ شرطی اشتہار ہے۔(ازالہ اوھام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 602 تا604) ب: ایسے شخص کو صرف یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ حدیث جس کو وہ پیش کرتا ہے وہ حدیث صحیح نبوی ہے یا گزشتہ عرب کے شاعروں میں سے کسی ایسے شاعر کا قول ہے جو علم محاورات عرب میں مسلم الکمال ہے اور یہ ثبوت دینا بھی ضروری ہوگا کہ قطعی طور پر اس حدیث یا اس شعر سے ہمارے دعوی کے مخالف