احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 10 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 10

تعلیمی پاکٹ بک 10 حصہ اوّل 1: وفات دینا۔2: سُلا دینا۔مگر سُلا دینے کے معنوں کے لئے قرینہ ہونا چاہئے۔اگر سُلا دینے کے معنوں کا قرینہ نہ ہو تو اس جگہ حتمی طور پر موت کے معنی متعین ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ تینوں شرطیں کہ توفی باب تفعل سے ہو ، خدا اس کا فاعل ہو اور ذی روح اس کا مفعول به ہو اور نیند کا قرینہ موجود نہ ہو وفات کے معنی کی تعیین کے لئے حتمی قرینہ ہیں۔کیونکہ یہ معنی عرفی ہیں اور حقیقت عرفیہ کے محل پر لغوی معنی مراد نہیں ہوا کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعلان : بعض علمائے وقت کو اس بات پر سخت غلو ہے کہ مسیح ابن مریم فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہی آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور حیات جسمانی دنیوی کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور نہایت بے باکی اور شوخی کی راہ سے کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے وفات دینا نہیں ہیں بلکہ پورا لینا ہے۔یعنی یہ کہ روح کے ساتھ جسم کو بھی لے لینا۔مگر ایسے معنے کرنا ان کا سراسر افتراء ہے قرآن کریم کا عموماً التزام کے ساتھ اس لفظ کے بارہ میں یہ محاورہ ہے کہ وہ لفظ قبض روح اور وفات دینے کے معنوں پر ہر یک جگہ اس کو استعمال کرتا ہے یہی محاورہ تمام حدیثوں اور جمیع اقوالِ رسول اللہ علی اللہ میں پایا جاتا ہے۔جب سے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہوا ہے اور زبان عربی جاری ہوئی ہے کسی قول قدیم یا جدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ توفی کا لفظ کبھی قبض جسم کی نسبت استعمال کیا گیا ہو بلکہ جہاں کہیں توفّی کے لفظ کو خدا تعالیٰ ٹھہرا کر انسان کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ صرف وفات دینے اور قبض روح کے معنی پر آیا ہے نہ کہ قبض جسم کے معنوں میں۔کوئی کتاب لغت