احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 274
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 274 حصہ دوم عذاب بننے والے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود اس اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں:۔اس کام ( محمدی بیگم کے دوسری جگہ نکاح) کے مدارالمہام وہ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہوجائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہ رہے گا۔مگرانہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔اگر ان کی طرف سے تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو تو ڑ دیا۔کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔اور عمد چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔۔۔۔۔اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔(اشتہار مورخہ 2 رمئی 1891 تبلیغ رسالت جلد 2 صفحہ 9۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 186 ، 187 (بار دوم ) دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ازواج کا اموال طلب کرنا کوئی معصیت نہ تھا جب کہ دوسروں کو اموال میں سے حصہ مل رہا تھا۔ہاں رسول اللہ اور اللہ تعالیٰ اُن کا کردار اس سے بلند دیکھنا چاہتے تھے۔اور ان کے دلوں کو دنیا کی محبت سے خالی کرنا چاہتے تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس مطالبہ پر قائم رہنے کی صورت میں طلاق دینے کی اجازت دیدی۔اگر ازواج مطہرات اپنے اس مطالبہ پر قائم رہتیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور طلاق دیتے۔لیکن انہوں نے اپنا مطالبہ ترک کر دیا اور نہایت شاندار کردار کا مظاہرہ کیا۔اس لئے حضور کو طلاق نہ دینا پڑی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیوی اور بیٹے کا کردار اس وقت سنگین جرم کے