احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 272
یتعلیمی پاکٹ بک اعتراض ہفتم 272 حصہ دوم مرز افضل احمد کو بیوی چھوڑنے اور محروم الارث ہونے کا نوٹس کیوں دیا گیا اُن کا کیا قصور تھا؟ الجواب :۔چونکہ مرزافضل احمد کی بیوی کا تعلق مخالفین سے تھا اور وہ خود بھی مخالفین میں شامل تھی۔اور الہام الہی بتا تا تھا کہ جولوگ ایسے مخالفین سے علیحدہ نہ ہوں اور ان سے تعلقات رکھیں اُن پر عذاب الہی نازل ہوگا۔لہذا حضرت اقدس کو اپنے بیٹے پر شفقت مجبور کرتی تھی کہ وہ بیٹے کو اپنی بیوی سے قطع تعلق کرنے کا مشورہ دیں تا وہ بھی عذاب کا مورد نہ بنیں۔احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ اگر باپ اپنی بہو کوکسی خلاف شرع بات کی وجہ سے نا پسند کرتا ہو تو وہ بیٹے کو طلاق دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:۔عن ابن عمر قال كَانَتْ تَحْتى امرءة احبها وكان ابي يَكْرَهُهَا فَامَرَنِى اَنْ أُطَلَّقَهَا فَأَبَيْتُ فذكرت ذلك للنبي صلّى الله عليه وسلّم فقال يا عبد الله بن عمر طلق امرء تک۔(ترمذی کتاب الطلاق باب ماجاء في الرجل يسأله ابوه ان يطلق زوجته) ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ میری ایک بیوی تھی جس سے مجھے بہت محبت تھی لیکن میرے والد کو اس سے سخت نفرت تھی۔انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دوں۔میں نے بات نہ مانی اور اس بات کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اے عبد اللہ بن عمر ا پنی بیوی کو طلاق دے دو حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گھر آئے تو ان کی بیوی کے ذریعہ اُن کو پیغام دے گئے۔غَيْرُ عَتْبَة بابک کہ اپنے دروازے دو۔