احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 7 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 7

تعلیمی پاکٹ بک معنوں میں حصر کر دیا گیا ہے۔1 وفات دینا -1 2 سلا دینا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔7 حصہ اول اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔(الزمر: 43) ترجمہ: اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جو جان نہ مرے اسے قبض کرتا ہے اس کی نیند میں پھر وہ رو کے رکھتا ہے اس جان کو جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو بھیج دیتا ہے مقررہ وقت تک کے لئے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہر جاندار کو توفی یا موت کی صورت میں ہوتی ہے یا نیند کی صورت میں۔پہلا جملہ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا ثبت ہے اور دوسرا جملہ وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ منفی۔اس طرح اثبات اور نفی کے ذریعہ ذی روح کے لئے تَوَفِّی کا دو معنوں میں حصر کر دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس جس جان کی تَوَفِّی موت کے ذریعہ نہ ہوگی اس کی تَوَفّی صرف اور صرف نیند کی صورت میں ہی ہوگی۔پس تَوَفّی کے معنی بیداری میں خدا کا جاندار کے روح و جسم کا قبضہ میں لے لینا از روئے قرآن مجید درست معنی نہیں کیونکہ یہ ایسے تیسرے معنی ہوں گے جس کا استعمال ذی روح کے لئے قرآن مجید تسلیم نہیں کرتا اور سُلانے کے معنی وہاں لئے جاتے ہیں جہاں نیند کے لئے قرینہ موجود ہو ورنہ قرآن کریم میں جہاں نیند کا قرینہ نہیں ہے وہاں ہر جگہ توفی کے صیغے خدا کے فاعل ہونے اور انسان کے مفعول