احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 255
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 255 حصہ دوم بچ گیا اور پیشگوئی کا یہ حصہ شرط تو بہ سے فائدہ اُٹھانے کی وجہ سے ٹل گیا۔جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے تو بہ کرنے پر وہ عذاب ٹل گیا تھا جس کے چالیس دن میں پورے ہونے کی پیشگوئی حضرت یونس علیہ السلام نے فرمائی تھی۔چونکہ مرزا سلطان محمد صاحب کی تو بہ اور رجوع سے ان کی موت کی پیشگوئی ٹل گئی اور حضرت اقدس سے نکاح محمدی بیگم صاحبہ کے بیوہ ہونے سے مشروط تھا۔اس لئے اب اس کا وقوع میں آنا ضروری نہ رہا اور پیشگوئی کے یہ آخری دو حصے شرط تو بہ سے فائدہ اُٹھانے کی وجہ سے دوسرا رنگ پکڑ گئے۔اب نکاح کا وقوع صرف اس بات سے معلق ہو کر رہ گیا کہ سلطان محمد صاحب از خود حضرت اقدس کی زندگی میں کسی وقت بیا کی اور شوخی دکھا ئیں اور پیشگوئی کی تکذیب کریں اس تکذیب کا صرف امکان ہی تھا یہ ضروری الوقوع نہ تھی اور نکاح کے اس طرح معلق ہونے کی حد حضرت اقدس کی زندگی تک تھی مگر محمدی بیگم کا خاوند اس کے بعد حضرت اقدس کی زندگی میں تو بہ پر قائم رہا اور خاندان کے دوسرے افراد نے بھی اصلاح کرلی تو اس وعیدی پیشگوئی کی اصل غرض جو اس خاندان کی اصلاح تھی پوری ہوگئی۔کیونکہ اس خاندان کے افراد نے الحاد اور دہریت کے خیالات کو ترک کر دیا اور اسلام کی عظمت کے قائل ہو گئے اور اُن میں سے اکثر نے احمدیت قبول کر لی۔وعیدی پیشگوئی کی اصل غرض چونکہ تو بہ اور استغفار کی طرف رجوع دلانا اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا سکہ دلوں پر بٹھانا ہوتی ہے اس لئے جب یہ شرط پوری ہو جائے تو پھر سُنت اللہ کے مطابق عذاب بالکل ٹل جایا کرتا ہے بشر طیکہ متعلقین پیشگوئی اپنی تو بہ پر قائم رہیں۔اور اگر انہوں نے تو بہ پر قائم نہ رہنا ہو تو پھر سنت اللہ یوں ہے کہ عذاب میں اس وقت تک تاخیر ہو جاتی ہے کہ وعیدی پیشگوئی کے متعلقین پھر بے با کی دکھا ئیں اور اپنی تو بہ توڑ دیں۔