احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 227
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 227 حصہ دوم حضرت یونس علیہ السلام سے یہ اجتہادی غلطی سرزد ہوئی تھی کہ وہ اس وجہ سے بھاگ نکلے کہ میری عذاب کی پیشگوئی لفظاً پوری نہیں ہوئی حالانکہ یہ پیشگوئی وعیدی پیشگوئیوں کے قاعدہ کے ماتحت قوم کے تو بہ اور رجوع سے ٹل گئی تھی اور یونس علیہ السلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا تھا۔مگر چونکہ وہ ایک اجتہادی خطا سے بھاگ نکلے تھے اس لئے خدا تعالیٰ حضرت یونس علیہ السلام کے اس بلا وجہ بھاگ نکلنے کے واقعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت فرماتا ہے کہ آپ بھی کسی وعیدی پیشگوئی کے متعلق ایسا نمونہ نہ دکھا ئیں جو یونس علیہ السلام نے دکھایا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی غرض سے مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُوْم۔(القلم: 49) ترجمہ۔اے نبی ! وعیدی پیشگوئیوں میں خوب انتظار کرنا اور مچھلی والے یعنی یونس کی طرح نہ بنا جب اس نے خدا کو پکارا اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا ( کہ میری پیشگوئی کیوں پوری نہ ہوئی)۔اور قرآن مجید اس واقعہ کو بیان کر کے اُمتِ محمدیہ کے ملہمین کو بھی اللہ تعالیٰ بالواسطہ نصیحت کرتا ہے کہ وعیدی پیشگوئیاں اگر لفظاً پوری نہ ہوں اور جس کے بارہ میں پیشگوئی ہو اس کے توبہ کر لینے سے اگر پیشگوئی مل جائے تو یہ گھبراہٹ کی جگہ نہیں۔اور اُمت کے علماء اور دوسرے لوگوں کو اس واقعہ کے ذکر سے متنبہ کیا ہے کہ وہ وعیدی پیشگوئیوں پر بلاوجہ کسی ملہم پر زبان طعن دراز نہ کریں کیونکہ وعیدی پیشگوئیاں ہمیشہ تو بہ کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں اور توبہ کر لینے والوں سے ان میں بیان کردہ عذاب ٹل جایا کرتا ہے۔اس لئے یہ بات محلّ اعتراض نہیں۔