احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 221
ندی تعلیمی پاکٹ بک تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ:۔221 إِنَّ وَعِيدَ الْفُسَّاقِ مَشْرُوطٌ بِعَدَمِ الْعَفْوِ - " حصہ دوم (بیضاوی تفسیر آل عمران ع زیر آیت إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ) کہ فاسقوں کے متعلق عذاب کی پیشگوئی کا پورا ہونا اس شرط سے مشروط ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ معاف نہ کرے۔یہ اصول وعیدی پیشگوئی کے متعلق حدیث نبوی سے ماخوذ ہے۔چنانچہ تفسیر روح المعانی جلد دوم صفحہ 55 مصری میں لکھا ہے:۔"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَجُوزُ اَنْ يُخْلِفَ الْوَعِيدَ وَإِن امْتَنَعَ أَنْ يُخْلِفَ الْوَعْدَ وَ بِهَذَا وَرَدَتِ السُّنَّةُ فَفِي حَدِيثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَعَدَهُ اللَّهُ عَلَى عَمَلِهِ ثَوَابًا فَهُوَ مُنْجِرٌ لَهُ وَمَنْ اَوْعَدَهُ عَلَى عَمَلِهِ عِقَابًا فَهُوَ بِالْخَيَارِ وَمِنْ اَدْعِيَةِ الائِمَّةِ الصَّادِقِينَ يَا مَنْ إِذَا وَعَدَ وَفَا وَإِذَا تَوَعْدَ عَفَا۔“ یعنی خدا تعالیٰ کے لئے جائز ہے کہ وہ وعید ( یعنی عذاب کی پیشگوئی ) میں مختلف کرے اگر چہ وعدہ کے خلاف کرنا ممتنع ہے۔اور اسی طرح سنت میں بھی وارد ہوا ہے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر خدا تعالیٰ انسان کے عمل پر کسی ثواب (انعام) کا وعدہ کرے تو اُسے پورا کرتا ہے اور جس سے اُس کے کسی عمل پر عذاب کی وعید کرے اُسے اختیار ہے(چاہے تو اُسے پورا کرے چاہے تو معاف کر دے) اور ائمہ صادقین کی دُعاؤں میں سے ایک دعا یوں ہے کہ اے وہ اللہ کہ جب وعدہ کرے تو پورا کرتا ہے اور جب وعید کرے تو معاف کرتا ہے۔“