احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 220
ندی علیمی پاکٹ بک 220 حصہ دوم فعِدُونَ۔(المائدة: 23تا25) یعنی اے موسٰی ! اس بستی میں ایک زبر دست قوم رہتی ہے۔جب تک وہ اس میں ہیں ہم اس میں داخل نہیں ہو نگے تم اور تمہارا خدا جا کر لڑائی کرو ہم یہاں ہی بیٹھتے ہیں۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ علاقہ اُن پر چالیس برس کے لئے حرام کر دیا۔جیسا فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً يَتِيْهُونَ فِي که فرمایا الْأَرْضِ (المائدة: 27) د یعنی وہ زمین ( کنعان ) اُن پر چالیس سال کے لئے حرام کر دی گئی۔وہ زمین میں بھٹکتے رہے۔“ وعید کی تمام پیشگوئیاں عدم عفو کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں۔چنانچہ عقائد میں یہ مسلم ہے کہ: إِنَّ جَمِيعَ الْوَعِيدَاتِ مَشْرُوْطَةٌ بِعَدَمِ الْعَفْوِ فَلَا يَلْزِمُ مِنْ تَرْكِهَا دُخُولُ الْكِذَبِ فِي كَلَامِ اللَّهِ۔(تفسیر کبیر رازی جلد2صفحه 409 مصری) د یعنی وعیدی پیشگوئیوں میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے معاف نہ کر دیا تو لفظاً لفظاً پوری ہوتی ہیں۔لہذا اگر وعیدی پیشگوئی پوری نہ ہو تو اس سے خدا کے کلام کا جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔“ عقائد کی کتاب مسلم الثبوت کے صفحہ 28 میں ہے کہ :۔"إِنَّ الْإِيْعَادَ فِي كَلَامِهِ تَعَالَى مُقَيَّدٌ بِعَدَمِ الْعَفْوِ۔“ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر وعید میں عدم عضو کی شرط ہوتی ہے۔“