احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 219
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 219 حصہ دوم پیشگوئیوں کے اصول (1) پیشگوئیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔بعض وعدہ پر مشتمل ہوتی ہیں اور بعض وعید یعنی کسی عذاب کی خبر پر۔(1) جو پیشگوئیاں کسی وعدہ پر مشتمل ہوتی ہیں اگر اس کے ساتھ کوئی شرط مذکور نہ ہو تو وہ وعدہ لفظاً لفظاً پورا کر دیا جاتا ہے۔لیکن اگر وہ وعدہ مشروط ہو اور جس شخص یا قوم کے متعلق وعدہ ہو وہ اس شرط کو پورا نہ کرے جس شرط سے یہ وعدہ مشروط ہے تو وہ وعدہ پورا نہیں کیا جاتا اس میں تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔چنانچہ قوم موسیٰ علیہ السلام کو کنعان کی سرزمین دینے کا ان الفاظ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ:۔يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ - (المائدة:22) و یعنی اے قوم! ارض مقدسہ ( کنعان ) میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور (اس کام سے ) پشت نہ پھیر لینا ورنہ نامراد 66 لوٹو گے۔“ یہ وعدہ پشت نہ پھیرنے سے مشروط تھا۔چونکہ بنی اسرائیل نے یہ کہہ کر پشت پھیر دی کہ :۔يُمُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ۔۔۔إِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا