احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 182
تعلیمی پاکٹ بک 182 حصہ اوّل مانتے ہیں۔“ چاہیے۔محمدن ازم کو ضرور تباہ ہونا چاہیے مگر اسلام کی بربادی نہ تو مضمحل لاطینی عیسویت کے ذریعہ ہو سکے گی اور نہ بے طاقت یونانی عیسویت کے ذریعہ اور نہ ان لوگوں کی تھکی ماندی عیسویت کے ذریعہ سے جو مسیح کو صرف برائے نام لیوز آف ہیلنگ 25 اگست 1900ء) مطلب اس کا یہ تھا کہ اسلام کی تباہی خود اس کے ذریعہ سے ہوگی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس شخص کے دعاوی کا علم ہوا تو آپ نے 8 را گست 1902ء کو ایک چٹھی لکھی جس میں حضرت مسیح کی وفات اور سرینگر کشمیر میں ان کی قبر کا ذکر کرتے ہوئے اسے مباہلہ کا چیلنج دیا اور لکھا کہ:۔غرض ڈوئی بار بار کہتا ہے کہ عنقریب یہ سب ہلاک ہو جائیں گے بجز اس گروہ کے جو یسوع مسیح کی خدائی مانتا ہے اور ڈوئی کی رسالت۔اس صورت میں یورپ و امریکہ کے تمام عیسائیوں کو چاہیے کہ وہ بہت جلد ڈوٹی کو مان لیں تا ہلاک نہ ہو جا ئیں۔۔۔ہم ڈوئی کی خدمت میں بہ ادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کو مارنے کی کیا ضرورت ہے ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔وہ بات یہ ہے کہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سنائیں بلکہ ان میں سے صرف مجھ اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے۔ریویوآف ریلجنزاردو دسمبر 1902ء) ڈوئی نے تو حضرت اقدس کے اس چیلنج مباہلہ کا کوئی جواب نہ دیا مگر امریکہ کے اخبارات نے اس چیلنج کا ذکر اچھے ریمارکس کے ساتھ کیا۔چنانچہ ایک اخبار ارگوناٹ سان فرانسسکو نے یکم دسمبر 1902ء کی اشاعت میں بعنوان ”اسلام