احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 144 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 144

تشریح: 144 حصہ اوّل علامہ ابن حجر اس کی تشریح میں تحریر فرماتے ہیں۔الْمُرَادُ هُنَا النَّظُرُ إِلَى الْأَكْمَلِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الشَّرِيعَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ مَعَ مَا مَضَى مِنَ الشَّرَائِع الْكَامِلَةِ۔: (فتح الباری جلد 2 صفحه 380) ترجمه مراد اس تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ <mark>شریعت</mark> <mark>محمد</mark> یہ پہلے گزری ہوئی کامل <mark>شریعت</mark>وں کی نسبت ایک اکمل <mark>شریعت</mark> ہے۔واضح رہے کہ اس حدیث میں مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِی کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال <mark>صرف</mark> پہلے گزرے ہوئے ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء سے دی ہے جو تشریعی یا <mark>مستقل</mark> <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> تھے۔بلاشبہ نبوت تشریعیہ یا نبوت <mark>مستقل</mark>ہ کی عمارت حضرت آدم سے شروع ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی تکمیل ہوگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والا امتی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> اس جگہ زیر بحث نہیں آ سکتا کیونکہ مسیح موعود کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> بھی قرار دیا ہے اور امتی بھی۔حدیث چهارم لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ۔هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ۔( ترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب عمر بن الخطاب) یعنی خدا نے مجھے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> بنا دیا ہے اگر اس زمانہ میں میرے سوا کوئی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ย ہونا ہوتا تو حضرت عمر ہوتے۔یہ حدیث غریب ہے۔امام ترمذی نے لکھا ہے: هذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ۔یعنی یہ حدیث غریب ہے