احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 141
تعلیمی پاکٹ بک 141 حصہ اوّل والے کا استثناء بھی مذکور ہے چنا نچہ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں :۔سَيَكُونُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَدْعَى أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي الْإِمَاشَاء الله : (نبر اس شرح الشرح العقائد النسفی صفحه 445) ترجمه میری امت میں تمہیں آدمی ہوں گے اُن میں سے ہر ایک نبوت کا دعوی کرے گا اور تحقیق میرے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس نبی کے جسے اللہ چاہے۔اس روایت کے متعلق بشرط صحت صاحب نبر اس لکھتے ہیں کہ الا کے استثناء کا تعلق مسیح موعود سے ہے۔نیز نبراس کے حاشیے میں لکھا ہے: وَالْمَعْنى لَا نَبِيَّ بِنُبُوَّةِ التَّشْرِيعِ بَعْدِي إِلَّا مَاشَاءَ اللَّهُ مِنْ أَنْبِيَاءِ الْاَوْلِيَاءِ۔نبر اس حاشیه صفحه 445) ترجمه : حدیث کے فقرہ لا نَبِيَّ بَعْدِی کے معنی یہ ہیں کہ کوئی نبی تشریعی نبوت کے ساتھ میرے بعد نہیں ہوگا إِلَّا مَا شَاءَ الله کے استثناء سے مراد أَنْبِيَاءِ الْاَوْلِيَاء۔ہیں یعنی وہ اولیاء جو امت میں سے مقام نبوت پانے والے ہیں۔حدیث دوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک پر جانے کے موقع پر حضرت علی کو پیچھے خلیفہ مقرر کرنے اور حضرت علی کے یہ فقرہ کہنے پر کہ اتترُ كُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ یعنی کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں پر چھوڑ رہے ہیں۔یعنی آپ مجھے جنگ میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے