احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 135
لیمی پاکٹ بک 135 حصہ اول ہے ( یعنی ان رسولوں کی آمدظلی طور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی آمد ہے)۔پھر آگے لکھتے ہیں: فَمَا زَالَ الْمُرْسَلُونَ وَلَا يَزَالُونَ فِي هَذِهِ الدَّارِ لَكِنْ مِنْ بَاطِنِيَّةِ شَرُعٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (اليواقيت والجواهر جلد 2 مبحث نمبر 45 صفحه 81) ترجمہ: پہلے بھی مرسلین دنیا میں رہے اور آئندہ بھی اس دنیا میں رہیں گے لیکن یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی باطنیت سے ہوں گے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی سے مرسل بنیں گے ) لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں۔عارف ربانی حضرت عبدالکریم جیلانی لکھتے ہیں: فَانْقَطَعَ حُكْمُ نُبُوَّةِ التَّشْرِيعِ بَعْدَهُ وَكَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَأَنَّهُ جَاءَ بِالْكَمَالِ وَلَمْ يَجِيءُ أَحَدٌ بذلک (الانسان الكامل جلد 1 صفحه 69 مطبوعه مصر) ترجمه : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی <mark>نبوت</mark> کا حکم منقطع ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ن قرار پائے کیونکہ آپ ایسی کامل شریعت لے کر آئے جو کوئی اور <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> نہیں لایا۔حضرت مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں: مکر گن در راه نیکو خدمتے تا <mark>نبوت</mark> یابی اندر امح ( مثنوی مولانا روم دفتر پنجم صفحه 57 مطبوع الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور )