احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 124
لیمی پاکٹ بک 124 حصہ اول وَقَالَ ابْنُ عَدِي لَهُ أَحَادِيتْ صَالِحَةٌ وَهُوَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي حَيَّةَ۔تهذيب التهذيب جلد 1 صفحه 35) ترجمہ : ”ابن ہارون نے کہا ہے کہ راوی ابن ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان عیسی سے بڑھ کر کسی نے قضاء میں عدل نہیں کیا اور ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی احادیث اچھی ہیں اور وہ ابی حیہ سے بہتر راوی ہے۔ابی حیہ کے متعلق لکھا ہے : ”وَثَقَهُ دَارُ قُطْنِي وَقَالَ النَّسَائِيُّ ثِقَةٌ۔“ تهذيب التهذيب جلد 1صفحه 13) ترجمه : دار قطنی نے ابی حیہ کو ثقہ راوی قرار دیا ہے اور نسائی بھی اسے ثقہ کہتے ہیں۔بیضاوی کے حاشیہ الشهاب علی البیضاوی میں اس حدیث کے متعلق لکھا ہے :۔أَمَّا صِحَّةُ الْحَدِيثِ فَلَا شُبُهَةَ فِيْهَا۔ترجمه: لیکن اس حدیث کی صحت میں شبہ نہیں۔نووی نے اس حدیث کو باطل قرار دیا تھا لیکن علامہ شوکانی نووی کے خیال کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں: هُوَ عَجِيْبٌ مِّنَ النَّوَوِى مَعَ وَ رُوُدِهِ عَنْ ثَلَاثَةٍ مِّنَ الصَّحَابَةِ وَكَانَّهُ لَمْ يَظْهَرْلَهُ تَأْوِيْلُهُ۔(الفوائد المجموعه صفحه 141) ترجمه : نووی کا اس حدیث کو باطل قرار دینا حیران کن بات ہے باوجود یکہ یہ حدیث تین صحابہ سے وارد ہوئی ہے ( گویا تین صحابہ کے طریق سے ثابت ہے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نووی پر اس کی تاویل نہیں کھلی۔